تم بھی نگاہ میں ہو عدو بھی نظر میں ہے

ہجر ناظم علی خان

تم بھی نگاہ میں ہو عدو بھی نظر میں ہے

ہجر ناظم علی خان

MORE BYہجر ناظم علی خان

    تم بھی نگاہ میں ہو عدو بھی نظر میں ہے

    دنیا ہمارے دیدۂ حسرت نگر میں ہے

    ہاں جانتے ہیں جان کا خواہاں تمہیں کو ہم

    معلوم ہے کہ تیغ تمہاری کمر میں ہے

    کیا رشک ہے کہ ایک کا ہے ایک مدعی

    تم دل میں ہو تو درد ہمارے جگر میں ہے

    گو غیر کی بغل میں سہی وہ پری جمال

    میں تو یہی کہوں گا کہ میری نظر میں ہے

    دونوں نے درد عشق کو تقسیم کر لیا

    تھوڑا سا دل میں ہے تو ذرا سا جگر میں ہے

    میں بھی ہوں آج میں کہ بر آئی مراد دل

    دل بھی ہے آج دل کہ وہ مہمان گھر میں ہے

    ممنون ہوں خیال کا اپنے شب فراق

    جو سامنے نظر کے نہیں وہ نظر میں ہے

    دلبر ہو ایک تم کہ ہماری نظر میں ہو

    دل ہے ہمارا دل کہ تمہاری نظر میں ہے

    کہتے ہیں جس کو دل مرے پہلو میں اب کہاں

    ہے بھی تو پائمال کسی رہ گزر میں ہے

    دیکھو تو دیکھتے ہیں تمہیں کس نگاہ سے

    حسرت ہے جس کا نام ہماری نظر میں ہے

    جس پر پڑی پسیج گیا موم ہو گیا

    ڈوبی ہوئی نگاہ ہماری اثر میں ہے

    جچتا نہیں نگاہ میں کوئی حسیں بھی ہجرؔ

    جب سے کسی کی چاند سی صورت نظر میں ہے

    RECITATIONS

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل,

    فصیح اکمل

    تم بھی نگاہ میں ہو عدو بھی نظر میں ہے فصیح اکمل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے