تم دل کی دل میں رکھو بتایا نہیں کرو

سبیلہ انعام صدیقی

تم دل کی دل میں رکھو بتایا نہیں کرو

سبیلہ انعام صدیقی

MORE BYسبیلہ انعام صدیقی

    تم دل کی دل میں رکھو بتایا نہیں کرو

    یوں کہہ کے داستان رلایا نہیں کرو

    مجھ سے بچھڑ کے رہتا ہے دل شاد ایک شخص

    یہ من گھڑت کہانی سنایا نہیں کرو

    آنکھوں کے گرد حلقے پڑے جاگ جاگ کر

    نیندوں کو میری ایسے اڑایا نہیں کرو

    میری غزل کا طول تمہارے سبب سے ہے

    تم سوچ بن کے شعر میں آیا نہیں کرو

    تارے شمار کرتی ہوں شب بھر فراق میں

    تم دور مجھ سے جاں مری جایا نہیں کرو

    مظلوم کی صدا سے نہ آ جائے انقلاب

    اتنا زیادہ ظلم بھی ڈھایا نہیں کرو

    کوشش کرو سبیلہؔ کے سب تم سے خوش رہیں

    ناحق کسی کے دل کو دکھایا نہیں کرو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY