تم کب تھے قریب اتنے میں کب دور رہا ہوں

باقی صدیقی

تم کب تھے قریب اتنے میں کب دور رہا ہوں

باقی صدیقی

MORE BYباقی صدیقی

    تم کب تھے قریب اتنے میں کب دور رہا ہوں

    چھوڑو نہ کرو بات کہ میں تم سے خفا ہوں

    رہنے دو کہ اب تم بھی مجھے پڑھ نہ سکو گے

    برسات میں کاغذ کی طرح بھیگ گیا ہوں

    سو بار گرہ دے کے کسی آس نے جوڑا

    سو بار میں دھاگے کی طرح ٹوٹ چکا ہوں

    جائے گا جہاں تو مری آواز سنے گا

    میں چور کی مانند ترے دل میں چھپا ہوں

    اک نقطے پہ آ کر بھی ہم آہنگ نہیں ہیں

    تو اپنا فسانہ ہے تو میں اپنی صدا ہوں

    چھیڑو نہ ابھی شاخ شکستہ کا فسانہ

    ٹھہرو میں ابھی رقص صبا دیکھ رہا ہوں

    منزل کا پتا جس نے دیا تھا مجھے باقیؔ

    اس شخص سے رستے میں کئی بار ملا ہوں

    مأخذ :
    • کتاب : baar-e-safar (Pg. 37)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY