تم خود ہی محبت کی ہر اک بات بھلا دو

حنیف اخگر

تم خود ہی محبت کی ہر اک بات بھلا دو

حنیف اخگر

MORE BYحنیف اخگر

    تم خود ہی محبت کی ہر اک بات بھلا دو

    پھر خود ہی مجھے ترک محبت کی سزا دو

    ہمت ہے تو پھر سارا سمندر ہے تمہارا

    ساحل پہ پہنچ جاؤ تو کشتی کو جلا دو

    اقرار محبت ہے نہ انکار محبت

    تم چاہتے کیا ہو ہمیں اتنا تو بتا دو

    کھل جائے نہ آنکھوں سے کہیں راز محبت

    اچھا ہے کہ تم خود مجھے محفل سے اٹھا دو

    سچائی تو خود چہرے پہ ہو جاتی ہے تحریر

    دعوے جو کریں لوگ تو آئینہ دکھا دو

    انسان کو انسان سے تکلیف ہے اخگرؔ

    انسان کو تجدید محبت کی دعا دو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY