تم نہ گھبراؤ مرے زخم جگر کو دیکھ کر

سدرشن فاکر

تم نہ گھبراؤ مرے زخم جگر کو دیکھ کر

سدرشن فاکر

MORE BYسدرشن فاکر

    تم نہ گھبراؤ مرے زخم جگر کو دیکھ کر

    میں نہ مر جاؤں تمہاری چشم تر کو دیکھ کر

    زخم تازہ کر رہا ہوں چارہ گر کو دیکھ کر

    راستہ میں نے بدل ڈالا خضر کو دیکھ کر

    زندگانی اک فریب دائمی ہے سر بسر

    مجھ پہ یہ ظاہر ہوا شام و سحر کو دیکھ کر

    گرچہ ان سے کوئی امید وفا مجھ کو نہیں

    جی بہل جاتا ہے پھر بھی نامہ بر کو دیکھ کر

    آج انساں سے ہے انساں برسر پیکار یوں

    الاماں شیطاں پڑھے خوئے بشر کو دیکھ کر

    آدمی میں آدمیت کا نشاں باقی نہیں

    بیچ ڈالا اس نے ایماں سیم و زر کو دیکھ کر

    آسماں تک تو ہم اے رفعتؔ رہے گرم خرام

    اس سے آگے چل نہ پائے راہبر کو دیکھ کر

    مأخذ :
    • کتاب : SAAZ-O-NAVA (Pg. 145)
    • مطبع : Raghu Nath suhai ummid

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY