تم تو حسد کی آگ میں پتھر ہی لائے تھے

منظر نقوی

تم تو حسد کی آگ میں پتھر ہی لائے تھے

منظر نقوی

MORE BYمنظر نقوی

    تم تو حسد کی آگ میں پتھر ہی لائے تھے

    نوحے ہوا کے دوش پر ہم نے سنائے تھے

    یہ روشنی جو دیکھتے ہو تم جگہ جگہ

    ہم نے یہ سب چراغ ہوا میں جلائے تھے

    جب قافلہ ہمارا ہوا تھا لہو میں تر

    اس مجمع عدو میں نظر تم بھی آئے تھے

    جب شام کے غبار میں اجڑا تھا کوئی باغ

    اجلی سحر کے پھول تھے خوشبو نہائے تھے

    یہ تازگی کلام کو یوں ہی نہیں ملی

    دل کے معاملات بھی منظر بنائے تھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے