تمہارے درد کو سورج کہا ہے

خورشید احمد جامی

تمہارے درد کو سورج کہا ہے

خورشید احمد جامی

MORE BYخورشید احمد جامی

    تمہارے درد کو سورج کہا ہے

    نیا اسلوب غزلوں کو دیا ہے

    سحر کے راستے میں سر اٹھائے

    اندھیروں کا وہی پربت کھڑا ہے

    بہت کچھ جو کتابوں میں نہیں تھا

    وہ چہروں کی لکیروں میں پڑھا ہے

    کوئی وحشت زدہ زخمی ارادہ

    تبسم بن کے لہراتا رہا ہے

    بتاؤ نام بھی ہے کچھ تمہارا

    مرا سایہ مجھی سے پوچھتا ہے

    مجھے اپنا سمجھ کر زندگی نے

    خود اپنے آپ کو دھوکا دیا ہے

    در و دیوار سے ہر روز جامیؔ

    وہی بے رنگ افسانہ سنا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY