تمہارے پاس رہیں ہم تو موت بھی کیا ہے

آزاد گلاٹی

تمہارے پاس رہیں ہم تو موت بھی کیا ہے

آزاد گلاٹی

MORE BY آزاد گلاٹی

    تمہارے پاس رہیں ہم تو موت بھی کیا ہے

    مگر جو دور کٹے تم سے زندگی کیا ہے

    جب اٹھ کے چل دیئے تم تیرگی امڈ آئی

    جو تم نہ ہو تو چراغوں کی روشنی کیا ہے

    کچھ ایسے پھول بھی گزرے ہیں میری نظروں سے

    جو کھل کے بھی نہ سمجھ پائے زندگی کیا ہے

    بس ان کی یاد کے ہم پاؤں چوم لیتے ہیں

    ہمیں خبر نہیں معراج بندگی کیا ہے

    کبھی جو گوش بر آواز ہو کے اس کو سنو

    تمہیں پتہ بھی چلے ساز خامشی کیا ہے

    مری نگاہ نے کیا کیا نہ خواب دیکھے ہیں

    تری نگاہ نے اک بات سی کہی کیا ہے

    ہمیں نے ظلمت ہستی میں دل جلائے ہیں

    یہ ہم سمجھتے ہیں درمان تیرگی کیا ہے

    ابھر رہی ہے جو رہ رہ کے دل کی دھڑکن میں

    وہ آرزو ہے کہ ہے اس کی بے بسی کیا ہے

    خزاں نصیب ہوں نظریں جو اہل گلشن کی

    تو پھر بہار کے جلووں کی تازگی کیا ہے

    جہاں میں یہ کبھی مجبور ہے کبھی مختار

    ہے ایک شعبدہ آزادؔ آدمی کیا ہے

    مآخذ:

    • کتاب : Dasht-e-Sada (Pg. 119)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY