تمہیں بھی چاہا، زمانے سے بھی وفا کی تھی

افتخار مغل

تمہیں بھی چاہا، زمانے سے بھی وفا کی تھی

افتخار مغل

MORE BY افتخار مغل

    تمہیں بھی چاہا، زمانے سے بھی وفا کی تھی

    یہ نگہ داری جنوں نے جدا جدا کی تھی

    وہ سارا قصہ فقط رکھ رکھاؤ کا تو نہ تھا

    اس ایک نام سے نسبت بھی انتہا کی تھی

    کسی چھبیلے میں وہ چھب نظر نہیں آئی

    وہ ایک چھب کہ جو اس آئینہ قبا کی تھی

    خدا! صلہ دے دعا کا، محبتوں کے خدا

    خدا! کسی نے کسی کے لیے دعا کی تھی

    میں اپنا چہرہ کہاں ڈھونڈھتا پھروں گا اب

    کہ میں نے تیری جبیں اپنا آئنا کی تھی

    ہمیں تباہ تو ہونا تھا اپنی اپنی جگہ!

    طویل جنگ تھی اور جنگ بھی انا کی تھی

    صبا نفس تھا وہ اور میں تھا گرد باد مزاج

    ہمارے بیچ تھی جو قدر سو ہوا کی تھی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY