تو بھلی بات سے ہی میری خفا ہوتا ہے

تاباں عبد الحی

تو بھلی بات سے ہی میری خفا ہوتا ہے

تاباں عبد الحی

MORE BY تاباں عبد الحی

    تو بھلی بات سے ہی میری خفا ہوتا ہے

    آہ کیا چاہنا ایسا ہی برا ہوتا ہے

    تیرے ابرو سے مرا دل نہ چھٹے گا ہرگز

    گوشت ناخن سے بھلا کوئی جدا ہوتا ہے

    میں سمجھتا ہوں تجھے خوب طرح اے عیار

    تیرے اس مکر کے اخلاص سے کیا ہوتا ہے

    ہے کف خاک مری بسکہ تب عشق سے گرم

    پانو واں جس کا پڑے آبلہ پا ہوتا ہے

    دل مرا ہاتھ سے جاتا ہے کروں کیا تدبیر

    یار مدت کا مرا ہائے جدا ہوتا ہے

    راہبر منزل مقصود کو درکار نہیں

    شوق دل اپنا ہی یاں راہ نما ہوتا ہے

    غیر ہرجائی مرا یار لیے جاتا ہے

    مجھ پہ تاباںؔ یہ ستم آج بڑا ہوتا ہے

    RECITATIONS

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    تو بھلی بات سے ہی میری خفا ہوتا ہے فصیح اکمل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY