تو ہے اور عیش ہے اور انجمن آرائی ہے

وحشتؔ رضا علی کلکتوی

تو ہے اور عیش ہے اور انجمن آرائی ہے

وحشتؔ رضا علی کلکتوی

MORE BYوحشتؔ رضا علی کلکتوی

    تو ہے اور عیش ہے اور انجمن آرائی ہے

    میں ہوں اور رنج ہے اور گوشۂ تنہائی ہے

    سچ کہا ہے کہ بہ امید ہے دنیا قائم

    دل حسرت زدہ بھی تیرا تمنائی ہے

    دل کی فریاد جو سنتا ہوں تو رو دیتا ہوں

    چوٹ کمبخت نے کچھ ایسی ہی تو کھائی ہے

    بے نیازی کی ادائیں وہ دکھاتے ہیں بہت

    خوئے تسلیم مری ان کو پسند آئی ہے

    زلف برہم مژہ برگشتہ جبیں چین آلود

    میری بگڑی ہوئی تقدیر کی بن آئی ہے

    ادب آموز بلا کا ہے تغافل ان کا

    شوق پر حوصلہ نے خوب سزا پائی ہے

    کہے دیتا ہوں کسی اور کی جانب تو نہ دیکھ

    کیا یہ کچھ کم ہے کہ وحشتؔ ترا سودائی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY