تو خوش نصیب ہے ہر شخص ہے اسیروں میں

اطہر نادر

تو خوش نصیب ہے ہر شخص ہے اسیروں میں

اطہر نادر

MORE BYاطہر نادر

    تو خوش نصیب ہے ہر شخص ہے اسیروں میں

    لکھا ہوا ہے ترے ہاتھ کی لکیروں میں

    جو ہو سکے تو مجھے بھی کہیں تلاش کرو

    میں کھو گیا ہوں خیالات کے جزیروں میں

    یہ انقلاب زمانہ نہیں تو پھر کیا ہے

    امیر شہر جو کل تھا وہ ہے فقیروں میں

    ہمیں یہ چاہیے ہشیار رہبروں سے رہیں

    کہ زہر بھی ہیں لگے مصلحت کے تیروں میں

    سڑک پہ ہو گیا پھر کوئی حادثہ شاید

    اک اضطراب سا لگتا ہے راہگیروں میں

    خلوص فن ہی تو نادرؔ کا ہے کہ شامل ہے

    اب اس کا نام بھی شہر سخن کے میروں میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY