تو مجھ کو سن رہا ہے تو سنائی کیوں نہیں دیتا

منیش شکلا

تو مجھ کو سن رہا ہے تو سنائی کیوں نہیں دیتا

منیش شکلا

MORE BYمنیش شکلا

    تو مجھ کو سن رہا ہے تو سنائی کیوں نہیں دیتا

    یہ کچھ الزام ہیں میرے صفائی کیوں نہیں دیتا

    مرے ہنستے ہوئے لہجے سے دھوکا کھا رہے ہو تم

    مرا اترا ہوا چہرہ دکھائی کیوں نہیں دیتا

    نظر انداز کر رکھا ہے دنیا نے تجھے کب سے

    کسی دن اپنے ہونے کی دہائی کیوں نہیں دیتا

    میں تجھ کو دیکھنے سے کس لیے محروم رہتا ہوں

    عطا کرتا ہے جب نظریں رسائی کیوں نہیں دیتا

    کئی لمحے چرا کر رکھ لیے تو الگ مجھ سے

    تو مجھ کو زندگی بھر کی کمائی کیوں نہیں دیتا

    خود اپنے آپ کو ہی گھیر کر بیٹھا ہے تو کب سے

    اب اپنے آپ سے خود کو رہائی کیوں نہیں دیتا

    میں تجھ کو جیت جانے کی مبارک باد دیتا ہوں

    تو مجھ کو ہار جانے کی بدھائی کیوں نہیں دیتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے