تو نہ ہو ہم نفس اگر جینے کا لطف ہی نہیں

ہادی مچھلی شہری

تو نہ ہو ہم نفس اگر جینے کا لطف ہی نہیں

ہادی مچھلی شہری

MORE BYہادی مچھلی شہری

    تو نہ ہو ہم نفس اگر جینے کا لطف ہی نہیں

    جس میں نہ تو شریک ہو موت ہے زندگی نہیں

    عشرت دید ہے یہی اپنا بھی کچھ رہے نہ ہوش

    جلوہ بقید تاب دید اصل میں جلوہ ہی نہیں

    اول عشق ہی میں کیا دل کا مآل دیکھنا

    یہ تو ہے ابتدائے سوز آگ ابھی لگی نہیں

    عشق ہے کیف بے خودی اس کو خودی سے کیا غرض

    جس کی فضا ہو وصل و ہجر عشق وہ عشق ہی نہیں

    یہ بھی نہ ہو خبر کہ سر سجدے میں ہے جھکا ہوا

    جس میں ہو بندگی کا ہوش وہ کوئی بندگی نہیں

    کس کا سر نیاز تھا پائے ایاز پر جھکا

    مانع بندگئ شوق سطوت خسروی نہیں

    کر نہ سکون دل کا غم ہادئ مبتلا ذرا

    عشق کی بارگاہ میں درد کی کچھ کمی نہیں

    مأخذ :
    • کتاب : Jadeed Shora-e-Urdu (Pg. 526)
    • Author : Dr. Abdul Wahid
    • مطبع : Feroz sons Printers Publishers and Stationers

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے