تو نہ تھا تیری تمنا دیکھنے کی چیز تھی

لیاقت علی عاصم

تو نہ تھا تیری تمنا دیکھنے کی چیز تھی

لیاقت علی عاصم

MORE BY لیاقت علی عاصم

    تو نہ تھا تیری تمنا دیکھنے کی چیز تھی

    دل نہ مانا ورنہ دنیا دیکھنے کی چیز تھی

    کیا خبر میرے جنوں کو شہر کیوں راس آ گیا

    ایسے عالم میں تو صحرا دیکھنے کی چیز تھی

    تم کو اے آنکھو کہاں رکھتا میں کنج خواب میں

    حسن تھا اور حسن تنہا دیکھنے کی چیز تھی

    لمس کی لو میں پگھلتا حجرۂ ذات و صفات

    تم بھی ہوتے تو اندھیرا دیکھنے کی چیز تھی

    آ گیا میرے مکاں تک اور آ کر رہ گیا

    بارشوں کے بعد دریا دیکھنے کی چیز تھی

    دھوپ کہتی ہی رہی میں دھوپ ہوں میں دھوپ ہوں

    اپنے سائے پر بھروسا دیکھنے کی چیز تھی

    شام کے سائے میں جیسے پیڑ کا سایا ملے

    میرے مٹنے کا تماشا دیکھنے کی چیز تھی

    مآخذ:

    • Book: Quarterly TASTEER Lahore (Pg. 617)
    • Author: Naseer Ahmed Nasir
    • مطبع: H.No.-21, Street No. 2, Phase II, Bahriya Town, Rawalpindi (Issue No. 1, 2, Jan To June.2011)
    • اشاعت: Issue No. 1, 2, Jan To June.2011

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites