تو نے کمال کام یہ نادان کر دیا

صفدر ہمدانی

تو نے کمال کام یہ نادان کر دیا

صفدر ہمدانی

MORE BYصفدر ہمدانی

    تو نے کمال کام یہ نادان کر دیا

    گھر میں مجھے خود اپنا ہی مہمان کر دیا

    بس اک ذرا سی بھول ہوئی اختلاف کی

    بے دخل کر کے تخت سے دربان کر دیا

    اے بد نصیب میرا یقیں مجھ سے چھین کر

    تجھ کو یہ زعم ہے مرا نقصان کر دیا

    بزدل تھا میں جو کر نہ سکا خود یہ انتظام

    صد شکر تم نے موت کا سامان کر دیا

    ہائے لگا کے آگ چراغاں کے شوق میں

    حاکم نے سارے شہر کو ویران کر دیا

    قد سے مرا سوال بڑا تھا سو اس لیے

    محسن کو اپنے داخل زندان کر دیا

    خیرات دے کے گزرا ہے جو میرے پاس سے

    اس نے کبھی مجھے بھی تھا بھگوان کر دیا

    یوں تو میں محتسب رہا اپنا تمام عمر

    تم نے مگر بتا کے یہ حیران کر دیا

    صفدرؔ قنوطیت کا یہ اعزاز جو ملا

    اعزاز دینے والے نے احسان کر دیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY