تو ساتھ ہو تو لگتا ہے محشر ہے ساتھ ساتھ

صفدر ہمدانی

تو ساتھ ہو تو لگتا ہے محشر ہے ساتھ ساتھ

صفدر ہمدانی

MORE BYصفدر ہمدانی

    تو ساتھ ہو تو لگتا ہے محشر ہے ساتھ ساتھ

    تیرا وجود جیسے سمندر ہے ساتھ ساتھ

    تقسیم کیجئے نہ مذاہب میں فرد کو

    مسجد کے ساتھ دیکھیے مندر ہے ساتھ ساتھ

    مرکز تو پہلے روز سے ہی میرے ساتھ تھا

    اس عشق کے وجود کا محور ہے ساتھ ساتھ

    تنہائی میں بھی سچ کہوں تنہا نہیں رہا

    اس شاعری کے صدقے میں شاعر ہے ساتھ ساتھ

    میرا یقین قد سے مرے ہے بلند تر

    گہرے سمندروں میں مقدر ہے ساتھ ساتھ

    حد نگاہ تک مری قبروں کا شہر ہے

    ہر اک قدم پہ میرے مجاور ہے ساتھ ساتھ

    یہ سلسلہ ہے سارے کا سارا یزید کا

    نسل یزید آج بھی صفدرؔ ہے ساتھ ساتھ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY