تو زمیں پر ہے کہکشاں جیسا

عارف شفیق

تو زمیں پر ہے کہکشاں جیسا

عارف شفیق

MORE BYعارف شفیق

    تو زمیں پر ہے کہکشاں جیسا

    میں کسی قبر کے نشاں جیسا

    میں نے ہر حال میں کیا ہے شکر

    اس نے رکھا مجھے جہاں جیسا

    ہو گئی وہ بہن بھی اب رخصت

    پیار جس نے دیا تھا ماں جیسا

    فاصلہ کیوں دلوں میں آیا ہے

    گھر کے آنگن کے درمیاں جیسا

    میرے دل کو ملا نہ لفظ کوئی

    میرے اشکوں کے ترجماں جیسا

    میرے اک شعر میں سمایا ہے

    کرب صدیوں کی داستاں جیسا

    شہر میں ایک مجھ کو دکھلا دو

    تم مرے گاؤں کے جواں جیسا

    جھیل سی ان اداس آنکھوں میں

    عکس تھا نیلے آسماں جیسا

    مجھ کو ویسا خدا ملا بالکل

    میں نے عارفؔ کیا گماں جیسا

    مأخذ :
    • کتاب : Pakistani Adab (Pg. 597)
    • Author : Dr. Rashid Amjad
    • مطبع : Pakistan Academy of Letters, Islambad, Pakistan (2009)
    • اشاعت : 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY