ٹوٹی ہوئی دیوار کی تقدیر بنا ہوں

راج نرائن راز

ٹوٹی ہوئی دیوار کی تقدیر بنا ہوں

راج نرائن راز

MORE BYراج نرائن راز

    ٹوٹی ہوئی دیوار کی تقدیر بنا ہوں

    میں کیسا فسانہ ہوں کہاں لکھا ہوا ہوں

    کوئی بھی مرے کرب سے آگاہ نہیں ہے

    میں شاخ سے گرتے ہوئے پتے کی صدا ہوں

    مٹھی میں لیے ماضی و امروز کی کرنیں

    میں کب سے نئے دور کی چوکھٹ پہ کھڑا ہوں

    اس شہر پر آشوب کے ہنگامہ و شر میں

    زیتون کی ڈالی ہوں کہیں شاخ حنا ہوں

    گویا نہیں لفظوں کے معانی سے شناسا

    ادراک کی سرحد پہ میں چپ چاپ کھڑا ہوں

    سمٹا تو بنا پھولوں کی خوش رنگ قبائیں

    بکھرا ہوں تو خوشبو کی طرح پھیل گیا ہوں

    میں رازؔ چمکتا ہوا جھومر تھا کسی کا

    اب شب کے سمندر میں کہیں ڈوب گیا ہوں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    ٹوٹی ہوئی دیوار کی تقدیر بنا ہوں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY