ٹوٹنے پر کوئی آئے تو پھر ایسا ٹوٹے

جواد شیخ

ٹوٹنے پر کوئی آئے تو پھر ایسا ٹوٹے

جواد شیخ

MORE BYجواد شیخ

    ٹوٹنے پر کوئی آئے تو پھر ایسا ٹوٹے

    کہ جسے دیکھ کے ہر دیکھنے والا ٹوٹے

    تو اسے کس کے بھروسے پہ نہیں کات رہی؟؟

    چرخ کو دیکھنے والی!! ترا چرخہ ٹوٹے

    اپنے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو سمیٹے کب تک؟؟

    ایک انسان کی خاطر کوئی کتنا ٹوٹے

    کوئی ٹکڑا تری آنکھوں میں نہ چبھ جائے کہیں

    دور ہو جا کہ مرے خواب کا شیشہ ٹوٹے

    میں کسی اور کو سوچوں تو مجھے ہوش آئے

    میں کسی اور کو دیکھوں تو یہ نشہ ٹوٹے

    رنج ہوتا ہے تو ایسا کہ بتائے نہ بنے

    جب کسی اپنے کے باعث کوئی اپنا ٹوٹے

    پاس بیٹھے ہوئے یاروں کو خبر تک نہ ہوئی

    ہم کسی بات پہ اس درجہ انوکھا ٹوٹے

    اتنی جلدی تو سنبھلنے کی توقع نہ کرو!!

    وقت ہی کتنا ہوا ہے مرا سپنا ٹوٹے

    داد کی بھیک نہ مانگ!! اے مرے اچھے شاعر!!

    جا تجھے میری دعا ہے ترا کاسہ ٹوٹے

    ورنہ کب تک لیے پھرتا رہوں اس کو جوادؔ

    کوئی صورت ہو کہ امید سے رشتہ ٹوٹے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY