اداس دیکھ کے وجہ ملال پوچھے گا

فضا ابن فیضی

اداس دیکھ کے وجہ ملال پوچھے گا

فضا ابن فیضی

MORE BYفضا ابن فیضی

    اداس دیکھ کے وجہ ملال پوچھے گا

    وہ مہرباں نہیں ایسا کہ حال پوچھے گا

    جواب دے نہ سکو گے پلٹ کے ماضی کو

    اک ایک لمحہ وہ چبھتے سوال پوچھے گا

    دلوں کے زخم دہن میں زباں نہیں رکھتے

    تو کس سے ذائقۂ اندمال پوچھے گا

    کبھی تو لا کے ملا مجھ سے میرے قاتل کو

    جو سر ہے دوش پہ تیرے وبال پوچھے گا

    یہ کیا خبر تھی کہ سینے کے داغ لو دیں گے

    کوئی جو محنت فن کا مآل پوچھے گا

    تو حرف عشق و بصیرت ہے لب نہ سی اپنے

    زمانہ تجھ سے بھی تیرا خیال پوچھے گا

    مجھے تراش کے رکھ لو کہ آنے والا وقت

    خزف دکھا کے گہر کی مثال پوچھے گا

    بنا کے پھول کی خوشبو پھرائے گی صدیوں

    ہوا سے کون رہ اعتدال پوچھے گا

    یہ ایک پل جو ہے مجہول شخص کی صورت

    مزاج آگہی ماہ و سال پوچھے گا

    یہاں تعین اقدار بھی ضروری ہے

    خود اپنے مشک کی قیمت غزال پوچھے گا

    مرا قلم ابدیت کی روشنی ہے فضاؔ

    اس آفتاب کو اب کیا زوال پوچھے گا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY