اداسیوں کا ہمیں آسرا شروع سے ہے

بابر علی اسد

اداسیوں کا ہمیں آسرا شروع سے ہے

بابر علی اسد

MORE BYبابر علی اسد

    اداسیوں کا ہمیں آسرا شروع سے ہے

    یہ عارضہ ہے تو پھر عارضہ شروع سے ہے

    وہ پورا سچ ہے تو اس کی گواہی آدھی کیوں

    اسے خدا سے یہی تو گلا شروع سے ہے

    کسی کے رنگ کے مرہون ہیں نہ لہجے کے

    کہ ہم میں جو بھی ہے اچھا برا شروع سے ہے

    نہ تم نے پوچھا کبھی اور نہ ہم نے بتلایا

    وگرنہ گھر کا یہی راستہ شروع سے ہے

    تمہیں تو آج زمانہ نے رد کیا ہے مگر

    ہمارے ساتھ یہی مسئلہ شروع سے ہے

    خدا کا ذکر ہوا ہے تو یاد آیا ہے

    ہمارے پاس تو اپنا خدا شروع سے ہے

    ہماری آنکھ میں اک خواب ہے تمہارے لیے

    مگر یہ شرط ہے وہ دیکھنا شروع سے ہے

    ہم اپنے اپنے نصیبوں کی دوریوں پہ کھڑے

    ہمارے بیچ کوئی فاصلہ شروع سے ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY