اداسیوں نے مری آتما کو گھیرا ہے

مینا کماری ناز

اداسیوں نے مری آتما کو گھیرا ہے

مینا کماری ناز

MORE BYمینا کماری ناز

    اداسیوں نے مری آتما کو گھیرا ہے

    رو پہلی چاندنی ہے اور گھپ اندھیرا ہے

    کہیں کہیں کوئی تارہ کہیں کہیں جگنو

    جو میری رات تھی وہ آپ کا سویرا ہے

    قدم قدم پہ بگولوں کو توڑتے جائیں

    ادھر سے گزرے گا تو راستہ یہ تیرا ہے

    افق کے پار جو دیکھی ہے روشنی تم نے

    وہ روشنی ہے خدا جانے یا اندھیرا ہے

    سحر سے شام ہوئی شام کو یہ رات ملی

    ہر ایک رنگ سمے کا بہت گھنیرا ہے

    خدا کے واسطے غم کو بھی تم نہ بہلاؤ

    اسے تو رہنے دو میرا یہی تو میرا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY