اجلے پروں میں کون چھپا ہے پتا نہیں

رئیس فراز

اجلے پروں میں کون چھپا ہے پتا نہیں

رئیس فراز

MORE BYرئیس فراز

    اجلے پروں میں کون چھپا ہے پتا نہیں

    ماتھے پہ تو کسی کے فریبی لکھا نہیں

    گلیوں میں کوئی آ کے پھر اک بار چیخ جائے

    مدت سے سارے شہر میں کوئی صدا نہیں

    کجلا گیا ہے کتنے ہی قدموں تلے مگر

    یہ راستہ عجیب ہے کچھ بولتا نہیں

    بھٹکا کیا میں زرد حقارت کے شہر میں

    نیلی حدوں کے پار وہ لیکن ملا نہیں

    ہر ساز پر ابھرنے لگے بے بسی کے گیت

    آؤ کہ رقص کے لئے موسم برا نہیں

    کاغذ پہ اس کا نام لکھو اور کاٹ دو

    وہ شخص بھی تو اب ہمیں پہچانتا نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY