الفت کے امتحاں میں اغیار فیل نکلے

دتا تریہ کیفی

الفت کے امتحاں میں اغیار فیل نکلے

دتا تریہ کیفی

MORE BY دتا تریہ کیفی

    الفت کے امتحاں میں اغیار فیل نکلے

    تھے پاس ایک ہم ہی جو جاں پہ کھیل نکلے

    تیغ و سناں کو رکھ دو آنکھیں لڑاؤ ہم سے

    اچھی ہے وہ لڑائی جس میں کہ میل نکلے

    دیکھا جو نور اس کا تو کھل گئی ہیں آنکھیں

    دنیا و دیں کے جھگڑے بچوں کا کھیل نکلے

    امید نیکیوں کی رکھو نہ تم بروں سے

    ممکن نہیں کھلی سے ہرگز جو تیل نکلے

    کب کوہ کن سے اٹھا کوہ گراں سے الفت

    ان سختیوں کو کیفیؔ کچھ ہم ہی جھیل نکلے

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY