الجھن میں اجالا ہے حیرت میں اندھیرا ہے

حیات وارثی

الجھن میں اجالا ہے حیرت میں اندھیرا ہے

حیات وارثی

MORE BYحیات وارثی

    الجھن میں اجالا ہے حیرت میں اندھیرا ہے

    دنیا ترے آنگن میں یہ کیسا سویرا ہے

    صدیوں سے ہے روز و شب چہروں کا سفر جاری

    لمحات کا آئینہ تیرا ہے نہ میرا ہے

    فطرت نے عطا کی ہے یہ بے سر و سامانی

    دل خانہ بدوشوں کا اجڑا ہوا ڈیرا ہے

    سانسوں سے سبک ہو کر بڑھ جاتے ہیں ہم آگے

    یہ پیکر خاکی تو اک رین بسیرا ہے

    کرنیں غم دوراں کی تھک جاتی ہیں رستے میں

    سایہ تری یادوں کا اس درجہ گھنیرا ہے

    سرمایہ اصولوں کا رکھ گھر میں حیاتؔ اپنے

    ہر گام یہاں رہزن ہر موڑ لٹیرا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے