الٹے وہ شکوے کرتے ہیں اور کس ادا کے ساتھ

مومن خاں مومن

الٹے وہ شکوے کرتے ہیں اور کس ادا کے ساتھ

مومن خاں مومن

MORE BYمومن خاں مومن

    الٹے وہ شکوے کرتے ہیں اور کس ادا کے ساتھ

    بے طاقتی کے طعنے ہیں عذر جفا کے ساتھ

    بہر عیادت آئے وہ لیکن قضا کے ساتھ

    دم ہی نکل گیا مرا آواز پا کے ساتھ

    بے پردہ غیر پاس اسے بیٹھا نہ دیکھتے

    اٹھ جاتے کاش ہم بھی جہاں سے حیا کے ساتھ

    وہ لالہ رو گیا نہ ہو گلگشت باغ کو

    کچھ رنگ بوئے گل کے عوض ہے صبا کے ساتھ

    اس کی گلی کہاں یہ تو کچھ باغ خلد ہے

    کس جاے مجھ کو چھوڑ گئی موت لا کے ساتھ

    آتی ہے بوئے داغ شب تار ہجر میں

    سینہ بھی چاک ہو نہ گیا ہو قبا کے ساتھ

    گلبانگ کس کا مشورۂ قتل ہو گیا

    کچھ آج بوئے خوں ہے وہاں کی ہوا کے ساتھ

    تھے وعدے سے پھر آنے کے خوش یہ خبر نہ تھی

    ہے اپنی زندگانی اسی بے وفا کے ساتھ

    کوچہ سے اپنے غیر کا منہ ہے مٹا سکے

    عاشق کا سر لگا ہے ترے نقش پا کے ساتھ

    اللہ رے گمرہی بت و بت خانہ چھوڑ کر

    مومنؔ چلا ہے کعبے کو اک پارسا کے ساتھ

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نسیم بیگم

    نسیم بیگم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY