امیدیں تو وابستہ ہیں ابر تر سے

امن لکھنوی

امیدیں تو وابستہ ہیں ابر تر سے

امن لکھنوی

MORE BYامن لکھنوی

    امیدیں تو وابستہ ہیں ابر تر سے

    جو برسے تو برسے نہ برسے نہ برسے

    جہاں کیا ہے اور اس کی رنگینیاں کیا

    یہ پوچھو کسی دیدۂ حق نگر سے

    زبان و دہن سے جو کھلتے نہیں ہیں

    وہ کھل جاتے ہیں راز اکثر نظر سے

    مرا راستہ کارواں سے الگ ہے

    گزرنا ہے اک منزل پر خطر سے

    یہ ہے امنؔ انساں کی پستی سی پستی

    گنہ سے بچا بھی تو دوزخ کے ڈر سے

    مأخذ :
    • کتاب : Aazadi ke baad dehli men urdu gazal (Pg. 56)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY