یہ جاں گداز سفر دام خواب ہو نہ کہیں

جاوید شاہین

یہ جاں گداز سفر دام خواب ہو نہ کہیں

جاوید شاہین

MORE BYجاوید شاہین

    یہ جاں گداز سفر دام خواب ہو نہ کہیں

    رواں ہے جس میں سفینہ سراب ہو نہ کہیں

    یوں ہی اترتا نہ جا سرد گہرے پانی میں

    چمکتا ہے جو بہت سحر آب ہو نہ کہیں

    کھڑا جو جھانکتا ہے کب سے گرم کمروں میں

    گلی میں ٹھٹھرا ہوا ماہتاب ہو نہ کہیں

    ہوا یہ کون سی چلتی ہے آر پار مرے

    کھلا ہوا کسی خواہش کا باب ہو نہ کہیں

    دلوں پہ کیوں نہیں کرتیں اثر تری باتیں

    زمیں تو ٹھیک ہے پانی خراب ہو نہ کہیں

    غبار سے بھری بوجھل فضا ہے دل پہ محیط

    گرج رہا ہے جو سر میں سحاب ہو نہ کہیں

    سجائے پھرتا ہے وہ جس کو کوٹ پر شاہیںؔ

    مرے ہی خوں کا مہکتا گلاب ہو نہ کہیں

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے