عمر بھر کی تلخ بیداری کا ساماں ہو گئیں

اختر شیرانی

عمر بھر کی تلخ بیداری کا ساماں ہو گئیں

اختر شیرانی

MORE BYاختر شیرانی

    عمر بھر کی تلخ بیداری کا ساماں ہو گئیں

    ہائے وہ راتیں کہ جو خواب پریشاں ہو گئیں

    میں فدا اس چاند سے چہرے پہ جس کے نور سے

    میرے خوابوں کی فضائیں یوسفستاں ہو گئیں

    عمر بھر کم بخت کو پھر نیند آ سکتی نہیں

    جس کی آنکھوں پر تری زلفیں پریشاں ہو گئیں

    دل کے پردوں میں تھیں جو جو حسرتیں پردہ نشیں

    آج وہ آنکھوں میں آنسو بن کے عریاں ہو گئیں

    کچھ تجھے بھی ہے خبر او سونے والے ناز سے

    میری راتیں لٹ گئیں نیندیں پریشاں ہو گئیں

    ہائے وہ مایوسیوں میں میری امیدوں کا رنگ

    جو ستاروں کی طرح اٹھ اٹھ کے پنہاں ہو گئیں

    بس کرو او میری رونے والی آنکھوں بس کرو

    اب تو اپنے ظلم پر وہ بھی پشیماں ہو گئیں

    آہ وہ دن جو نہ آئے پھر گزر جانے کے بعد

    ہائے وہ راتیں کہ جو خواب پریشاں ہو گئیں

    گلشن دل میں کہاں اخترؔ وہ رنگ نو بہار

    آرزوئیں چند کلیاں تھیں پریشاں ہو گئیں

    مآخذ:

    • کتاب : Kulliyat-e-Akhtar Shirani (Pg. 229)
    • Author : Akhtar Shirani
    • مطبع : Modern Publishing House, Daryaganj New delhi (1997)
    • اشاعت : 1997

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY