عمر گزری ہے بد گمانی پر

عرفان عابدی مانٹوی

عمر گزری ہے بد گمانی پر

عرفان عابدی مانٹوی

MORE BYعرفان عابدی مانٹوی

    عمر گزری ہے بد گمانی پر

    میں یقیں کر گیا کہانی پر

    چاند میری طرح بھی ٹوٹا تھا

    جب گھٹا چھائی رت سہانی پر

    توڑیئے اب رسن فراق کی یار

    رحم کھا جاؤ زندگانی پر

    سانس تھم جائے گی سمندر کی

    اشک گر جائے گا جو پانی پر

    ماں بلائے تو آپ بولے نہیں

    حیف ہے آپ کی جوانی پر

    ناز کرتا ہے زمزم و کوثر

    ہر گھڑی عرق ضو فشانی پر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY