عمر کاٹی بتوں کی آڑوں میں

مضطر خیرآبادی

عمر کاٹی بتوں کی آڑوں میں

مضطر خیرآبادی

MORE BYمضطر خیرآبادی

    عمر کاٹی بتوں کی آڑوں میں

    بن کے پتھر رہا پہاڑوں میں

    وہ لڑائی میں بول اٹھے مجھ سے

    بات اچھی بنی بگاڑوں میں

    درد سر کے علاج کو وحشت

    کھینچ کر لے چلی پہاڑوں میں

    مستیاں اور بہار کا موسم

    مے کی لذت گلابی جاڑوں میں

    دختر رز کی شرم تو دیکھو

    چھپ گئی جا کے خم کی آڑوں میں

    تو نے پی ہی نہیں ہے اے زاہد

    مے کی گرمی نہ پوچھ جاڑوں میں

    تیرے گیسو بھی ہو گئے شامل

    میری تقدیر کے بگاڑوں میں

    مرگ دشمن پہ موت روتی ہے

    یہ اثر ہے تری پچھاڑوں میں

    اٹھتے جوبن پہ کھل پڑے گیسو

    آ کے جوگی بسے پہاڑوں میں

    وہ گلے سے لپٹ کے سوتے ہیں

    آج کل گرمیاں ہیں جاڑوں میں

    عشق میں جان پر بنی مضطرؔ

    زندگی کٹ گئی بگاڑوں میں

    مأخذ :
    • کتاب : Khirman (Part-1) (Pg. 282)
    • Author : Muztar Khairabadi
    • مطبع : Javed Akhtar (2015)
    • اشاعت : 2015

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY