ان کی آمد ہے گل فشانی ہے

آلوک مشرا

ان کی آمد ہے گل فشانی ہے

آلوک مشرا

MORE BY آلوک مشرا

    ان کی آمد ہے گل فشانی ہے

    رنگ خوشبو کی میزبانی ہے

    کیسی ہوگی نہ جانے شام عمر

    صبح جب ایسی سر گرانی ہے

    موت کا کچھ پتہ نہیں لیکن

    زندگی صرف نوحہ خوانی ہے

    مرنے والا ہے مرکزی کردار

    آخری موڑ پر کہانی ہے

    خودکشی جیسی کوئی بات نہیں

    اک ذرا مجھ کو بد گمانی ہے

    یہ جو بارود ہے ہواؤں میں

    آگ تھوڑی سی بس لگانی ہے

    اس کا لکھا ہی جی رہا ہوں میں

    اس کی بابت ہی یہ کہانی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY