ان کی گود میں سر رکھ کر جب آنسو آنسو رویا تھا

بمل کرشن اشک

ان کی گود میں سر رکھ کر جب آنسو آنسو رویا تھا

بمل کرشن اشک

MORE BYبمل کرشن اشک

    ان کی گود میں سر رکھ کر جب آنسو آنسو رویا تھا

    کچھ لمحے گزرے وہ لمحہ میری آنکھوں سے گزرا تھا

    اے ساٹن کے نیلے پردو تم پر یہ کس کا سایہ ہے

    کیا مجھ کو کچھ وہم ہوا ہے یا سچ مچ کوئی آیا تھا

    جیسے دروازہ وا کر کے نکلا ہے کوئی کمرے سے

    جیسے اک دو لمحے گزرے صوفے پر کوئی بیٹھا تھا

    سچ سچ کہنا اے دیوارو اے تصویرو جھوٹ نہ بولو

    آخر ہے تو اس کمرے میں جس نے اس کا نام لیا تھا

    تم تو کچھ ایسے بھول گئے ہو جیسے کبھی واقف ہی نہیں تھے

    اور جو یوں ہی کرنا تھا صاحب کس لیے اتنا پیار کیا تھا

    آج تو سرسوں کا پیلا پن اگنی بھرتا ہے تن من میں

    ایک سمے تھا جب یہی موسم کھیت کھیت پیارا لگتا تھا

    ایک پرانے گیت کی دھن نے گزری یادیں یاد دلا دیں

    دامن کو اشکوں سے بھگوئے ایک زمانہ بیت چلا تھا

    مأخذ :
    • کتاب : Aazadi Ke Baad Urdu Gazal (Pg. 321)
    • Author : Shamshurrahman Farooqi
    • مطبع : NCPUL (2009)
    • اشاعت : 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY