ان کو خلا میں کوئی نظر آنا چاہیے

امیر امام

ان کو خلا میں کوئی نظر آنا چاہیے

امیر امام

MORE BYامیر امام

    ان کو خلا میں کوئی نظر آنا چاہیے

    آنکھوں کو ٹوٹے خواب کا ہرجانا چاہیے

    وہ کام رہ کے کرنا پڑا شہر میں ہمیں

    مجنوں کو جس کے واسطے ویرانہ چاہیے

    اس زخم دل پہ آج بھی سرخی کو دیکھ کر

    اترا رہے ہیں ہم ہمیں اترانا چاہیے

    تنہائیوں پہ اپنی نظر کر ذرا کبھی

    اے بےوقوف دل تجھے گھبرانا چاہیے

    ہے ہجر تو کباب نہ کھانے سے کیا اصول

    گر عشق ہے تو کیا ہمیں مر جانا چاہیے

    دانائیاں بھی خوب ہیں لیکن اگر ملے

    دھوکا حسین سا تو اسے کھانا چاہیے

    بیتے دنوں کی کوئی نشانی تو ساتھ ہو

    جان حیا تمہیں ذرا شرمانا چاہیے

    اس شاعری میں کچھ نہیں نقاد کے لیے

    دل دار چاہیے کوئی دیوانا چاہیے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY