ان کو روز اک تازہ حیلہ ایک خنجر چاہئے

وحید اختر

ان کو روز اک تازہ حیلہ ایک خنجر چاہئے

وحید اختر

MORE BYوحید اختر

    ان کو روز اک تازہ حیلہ ایک خنجر چاہئے

    ہم کو روز اک جاں نئی اور اک نیا سر چاہئے

    التفات و سرگرانی پر خوشی کیا رنج کیا

    کچھ بہانہ اس سے بڑھ کر دیدۂ تر چاہئے

    کیا دکھائیں خشک لب دو بوند کے ساقی ہیں سب

    پیاس صحرائے ازل اس کو سمندر چاہئے

    سچ کی اک ننھی سی کونپل کو کچلنے کے لیے

    جھوٹ اور دشنام کے لشکر کے لشکر چاہئے

    صبر کا دامان دولت ہے امیروں کا امیر

    جبر کی دریوزگی کو سینکڑوں در چاہئے

    بت بنانے پوجنے پھر توڑنے کے واسطے

    خود پرستی کو نیا ہر روز پتھر چاہئے

    ہم نے جس دنیا کو ٹھکرایا تھا ان کے واسطے

    مل گئے وہ تو اسی دنیا کا چکر چاہئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY