عروج اوروں کو کچھ دن ہے اہرمن کی طرح

کمال احمد صدیقی

عروج اوروں کو کچھ دن ہے اہرمن کی طرح

کمال احمد صدیقی

MORE BYکمال احمد صدیقی

    عروج اوروں کو کچھ دن ہے اہرمن کی طرح

    فروغ کس کو ہے رندوں کے بانکپن کی طرح

    مرا خیال نہیں ہے تو اور کیا ہوگا

    گزر گیا ترے ماتھے سے جو شکن کی طرح

    یہ سر زمین گل و لالہ سو بھی جاتی ہے

    لبادہ برف کا اوڑھے ہوئے کفن کی طرح

    کبھی تو گزروں گا اس رہ گزار سے ہو کر

    خود اپنی تاک میں بیٹھا ہوں راہزن کی طرح

    خزاں کا خوف مجھے کھائے جا رہا ہے کمالؔ

    چنار سرخ نہ ہوں آتش سخن کی طرح

    مأخذ :
    • کتاب : Aazadi ke baad dehli men urdu gazal (Pg. 298)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY