اس گھڑی کچھ تھے اور اب کچھ ہو

رضا عظیم آبادی

اس گھڑی کچھ تھے اور اب کچھ ہو

رضا عظیم آبادی

MORE BYرضا عظیم آبادی

    اس گھڑی کچھ تھے اور اب کچھ ہو

    کیا تماشا ہو تم عجب کچھ ہو

    مجھ کو کچھ دل پر اختیار نہیں

    تمہیں اس گھر کے اب تو سب کچھ ہو

    کچھ نہیں بات تس پہ یہ باتیں

    قہر کرتے ہو تم غضب کچھ ہو

    بہت کی شرم تھوڑی سی پی کر

    اس کے رکھتا ہوں لب پہ لب کچھ ہو

    عشق بازی نہیں رضاؔ بازی

    پہلے جاں بازی کیجے جب کچھ ہو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY