اس کا بدن بھی چاہئے اور دل بھی چاہئے

عمران الحق چوہان

اس کا بدن بھی چاہئے اور دل بھی چاہئے

عمران الحق چوہان

MORE BYعمران الحق چوہان

    اس کا بدن بھی چاہئے اور دل بھی چاہئے

    سرخیٔ لب بھی گال کا وہ تل بھی چاہئے

    یہ کاروبار شوق ہے بے گار تو نہیں

    اس کاروبار شوق کا حاصل بھی چاہئے

    پانی اور آگ ایک جگہ چاہئیں ہمیں

    جو شاخ گل بدست ہو قاتل بھی چاہئے

    سب کو خبر تو ہو کہ وہ میرا ہے بس مرا

    پہلو میں یار برسر محفل بھی چاہئے

    پا کر چراغ دل کی ہوس اور بڑھ گئی

    موصوف کو اب اک مہ کامل بھی چاہئے

    یوں بے کنار آرزوؤں سے وصول کیا

    خواہش کو ایک سمت بھی ساحل بھی چاہئے

    ژولیدہ مو و چاک گریباں سب اہل دل

    کوئی تو اس قبیلے میں عاقل بھی چاہئے

    اپنی الگ شناخت بھی عمرانؔ ہو ضرور

    وہ شخص اپنی زیست میں شامل بھی چاہئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY