اس کا نیزہ تھا اور مرا سر تھا

صالح ندیم

اس کا نیزہ تھا اور مرا سر تھا

صالح ندیم

MORE BYصالح ندیم

    اس کا نیزہ تھا اور مرا سر تھا

    اور اک خوش گوار منظر تھا

    کتنی آنکھوں سے ہو کے گزرا وہ

    اک تماشہ جو صرف پل بھر تھا

    دل کے رشتوں کی بات کرتے ہو

    ایک شیشہ تھا ایک پتھر تھا

    انگلیوں کے نشان بول پڑے

    کون قاتل تھا کس کا خنجر تھا

    ہم اصولوں کی بات کرتے رہے

    اور وہ تھا کہ اپنی ضد پر تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY