اس کے گلابی ہونٹ تو رس میں بسے لگے

حنیف ترین

اس کے گلابی ہونٹ تو رس میں بسے لگے

حنیف ترین

MORE BYحنیف ترین

    اس کے گلابی ہونٹ تو رس میں بسے لگے

    لیکن بدن کے ذائقے بے کیف سے لگے

    ٹوٹے قدم قدم پہ جو اپنی لچک کے ساتھ

    وہ دلدلوں میں ذات کی مجھ کو پھنسے لگے

    تمثیل بن گئے ہیں سمندر کی جھاگ کی

    صحرائے غم کی راکھ میں جو بھی دھنسے لگے

    جن کا یقین راہ سکوں کی اساس ہے

    وہ بھی گمان دشت میں مجھ کو پھنسے لگے

    ہم لے کے بے امانی کو جنگل میں آ گئے

    دل کو جو شہر خوباں میں کچھ وسوسے لگے

    مأخذ :
    • کتاب : Zamin Lapata Rahi (Pg. 68)
    • Author : Hanif Tareen
    • مطبع : Libarty Art Press, Pataudi House, Darya Ganj, (2001)
    • اشاعت : 2001

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY