اس کے ہونٹوں پہ بد دعا بھی نہیں

فاروق بخشی

اس کے ہونٹوں پہ بد دعا بھی نہیں

فاروق بخشی

MORE BY فاروق بخشی

    اس کے ہونٹوں پہ بد دعا بھی نہیں

    اب مرے واسطے سزا بھی نہیں

    لفظ خاموشیوں کا پردہ ہیں

    بولتا ہے وہ بولتا بھی نہیں

    میں نے پھولوں کو کھلتے دیکھا ہے

    اس نے ہونٹوں سے کچھ کہا بھی نہیں

    ایک مدت سے ساتھ ہوں اپنے

    اور میں خود کو جانتا بھی نہیں

    حادثے عام ہو گئے اتنے

    مڑ کے اب کوئی دیکھتا بھی نہیں

    جانے کیوں دل کی آنکھ روتی ہے

    میرے اندر کوئی مرا بھی نہیں

    مآخذ:

    • کتاب : Udas Lamhon Ke Mausam (Poetry) (Pg. 31)
    • Author : Farooq Bakhshi
    • مطبع : Modern Publishing House (2003)
    • اشاعت : 2003

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY