اس کے کوچے میں بہت رہتے ہیں دیوانے پڑے

رنگیں سعادت یار خاں

اس کے کوچے میں بہت رہتے ہیں دیوانے پڑے

رنگیں سعادت یار خاں

MORE BYرنگیں سعادت یار خاں

    اس کے کوچے میں بہت رہتے ہیں دیوانے پڑے

    ان میں دیکھا تو میاں رنگیںؔ نہ پہچانے پڑے

    میں سفر میں ہوں اور اس کو غیر بہکاتے ہیں واں

    مجھ کو اب کاغذ کے گھوڑے یاں سے دوڑنے پڑے

    ساقیا تیری نگاہ ناز کے باعث سے دیکھ

    جام و خم اوندھے ہیں اور تلپٹ ہیں پیمانے پڑے

    دوستوں کے کہنے سننے سے مجھے مجبور ہو

    زخم دل جراح کو اے وائے دکھلانے پڑے

    اب غزل اک اور رنگیںؔ تو بدل کر لکھ ردیف

    قافیہ پھر یہ مکرر تجھ کو کہہ جانے پڑے

    مأخذ :
    • کتاب : intekhaab-e-sukhan(avval) (Pg. 72)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY