اس کے منہ کا کڑوا بول بھی کیسا تھا

رفیق عثمانی

اس کے منہ کا کڑوا بول بھی کیسا تھا

رفیق عثمانی

MORE BYرفیق عثمانی

    اس کے منہ کا کڑوا بول بھی کیسا تھا

    دودھ میں جیسے شہد ملا ہو لگتا تھا

    کھلی ہوا میں اڑتے اڑتے مر جانا

    قفس میں رہ کر جینے سے تو اچھا تھا

    شادی ہو جانے پر بیٹا بھول گیا

    بیوہ ماں نے کیسے اس کو پالا تھا

    آج میں اس کا ہاتھ پکڑ کر چلتا ہوں

    کل جو میری انگلی تھامے چلتا تھا

    اب تو اس میں یادوں کا ہے شور بہت

    من کا آنگن پہلے کتنا سونا تھا

    سوچ رہا تھا آپ مرے گھر میں کیسے

    آنکھ کھلی تو سمجھ میں آیا سپنا تھا

    دن بھر ہنستا پھرتا تھا جو سڑکوں پر

    وہ پاگل تنہائی میں اکثر روتا تھا

    سر کو اونچا کر کے جو چلتا تھا رفیقؔ

    اصل میں مجھ سے قد میں ذرا وہ چھوٹا تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY