اس کے شرار حسن نے شعلہ جو اک دکھا دیا

نظیر اکبرآبادی

اس کے شرار حسن نے شعلہ جو اک دکھا دیا

نظیر اکبرآبادی

MORE BY نظیر اکبرآبادی

    اس کے شرار حسن نے شعلہ جو اک دکھا دیا

    طور کو سر سے پاؤں تک پھونک دیا جلا دیا

    پھر کے نگاہ چار سو ٹھہری اسی کے روبرو

    اس نے تو میری چشم کو قبلہ نما بنا دیا

    میرا اور اس کا اختلاط ہو گیا مثل ابر و برق

    اس نے مجھے رلا دیا میں نے اسے ہنسا دیا

    میں ہوں پتنگ کاغذی ڈور ہے اس کے ہاتھ میں

    چاہا ادھر گھٹا دیا چاہا ادھر بڑھا دیا

    تیشے کی کیا مجال تھی یہ جو تراشے بے ستوں

    تھا وہ تمام دل کا زور جس نے پہاڑ ڈھا دیا

    RECITATIONS

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    اس کے شرار حسن نے شعلہ جو اک دکھا دیا فصیح اکمل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY