اس کی آنکھوں میں اتر جانے کو جی چاہتا ہے

کفیل آزر امروہوی

اس کی آنکھوں میں اتر جانے کو جی چاہتا ہے

کفیل آزر امروہوی

MORE BYکفیل آزر امروہوی

    اس کی آنکھوں میں اتر جانے کو جی چاہتا ہے

    شام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے

    کسی کم ظرف کو با ظرف اگر کہنا پڑے

    ایسے جینے سے تو مر جانے کو جی چاہتا ہے

    ایک اک بات میں سچائی ہے اس کی لیکن

    اپنے وعدوں سے مکر جانے کو جی چاہتا ہے

    قرض ٹوٹے ہوئے خوابوں کا ادا ہو جائے

    ذات میں اپنی بکھر جانے کو جی چاہتا ہے

    اپنی پلکوں پہ سجائے ہوئے یادوں کے دیے

    اس کی نیندوں سے گزر جانے کو جی چاہتا ہے

    ایک اجڑے ہوئے ویران کھنڈر میں آذرؔ

    نا مناسب ہے مگر جانے کو جی چاہتا ہے

    مآخذ:

    • کتاب : Karwaan-e-Ghazal (Pg. 341)
    • Author : Farooq Argali
    • مطبع : Farid Book Depot (Pvt.) Ltd (2004)
    • اشاعت : 2004

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY