اس کی صورت کا تصور دل میں جب لاتے ہیں ہم

غمگین دہلوی

اس کی صورت کا تصور دل میں جب لاتے ہیں ہم

غمگین دہلوی

MORE BY غمگین دہلوی

    اس کی صورت کا تصور دل میں جب لاتے ہیں ہم

    خود بہ خود اپنے سے ہمدم آپ گھبراتے ہیں ہم

    ہوش گر رہتا ہو تجھ کو ہم سے پوشیدہ نہ رکھ

    جب وہ یاں آتا ہے اے دل تب کہاں جاتے ہیں ہم

    بیٹھے بیٹھے کیوں یکایک ہائے دل کھویا گیا

    ہمدم اس کا کچھ سبب ڈھونڈے نہیں پاتے ہیں ہم

    خود بہ خود کل شب کو وہ بولے اٹھا منہ سے نقاب

    جو نہ دیکھا ہو کسی نے مجھ کو، دکھلاتے ہیں ہم

    بے سبب ہو کر خفا جب کچھ سناتا ہے وہ شوخ

    جی ہی جی میں اپنے اوپر ہائے جھنجھلاتے ہیں ہم

    شام کو ساقی کبھی آتا ہے گر تیرا خیال

    صبح تک بھی ہوش میں اپنے نہیں آتے ہیں ہم

    ہم نے غم کیا خاک کھایا غم نے ہم کو کھا لیا

    لوگ اے ہمدم سمجھتے ہیں کہ غم کھاتے ہیں ہم

    جام لے کر مجھ سے وہ کہتا ہے اپنے منہ کو پھیر

    رو بہ رو یوں تیرے مے پینے سے شرماتے ہیں ہم

    جو کلام عشق یہ ہرگز سمجھتا ہی نہیں

    دل کو سو سو طرح غمگیںؔ ہائے سمجھاتے ہیں ہم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY