اس کو یہ ضد ہے کہ رہ جائے بدن سر نہ رہے

مظہر امام

اس کو یہ ضد ہے کہ رہ جائے بدن سر نہ رہے

مظہر امام

MORE BY مظہر امام

    اس کو یہ ضد ہے کہ رہ جائے بدن سر نہ رہے

    گھومتی جائے زمیں اور کوئی محور نہ رہے

    اس نے ہمت جو بڑھائی بھی تو رکھا یہ لحاظ

    کوئی بزدل نہ بنے کوئی دلاور نہ رہے

    اس نے اس طرح اتاری مرے غم کی تصویر

    رنگ محفوظ تو رہ جائیں پہ منظر نہ رہے

    اس نے کس ناز سے بخشی ہے مجھے جائے پناہ

    یوں کہ دیوار سلامت ہو مگر گھر نہ رہے

    اب یہ سازش ہے کہ لکھے نہ کوئی قصۂ دل

    لفظ رہ جائے مگر کوئی سخن ور نہ رہے

    اب کے آندھی بھی چلی جب تو سلیقے سے چلی

    یوں کہ رہ جائے شجر شاخ ثمر ور نہ رہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites