اس لمحے تشنہ لب ریت بھی پانی ہوتی ہے

افضل خان

اس لمحے تشنہ لب ریت بھی پانی ہوتی ہے

افضل خان

MORE BYافضل خان

    اس لمحے تشنہ لب ریت بھی پانی ہوتی ہے

    آندھی چلے تو صحرا میں طغیانی ہوتی ہے

    نثر میں جو کچھ کہہ نہیں سکتا شعر میں کہتا ہوں

    اس مشکل میں بھی مجھ کو آسانی ہوتی ہے

    جانے کیا کیا ظلم پرندے دیکھ کے آتے ہیں

    شام ڈھلے پیڑوں پر مرثیہ خوانی ہوتی ہے

    عشق تمہارا کھیل ہے باز آیا اس کھیل سے میں

    میرے ساتھ ہمیشہ بے ایمانی ہوتی ہے

    کیوں اپنی تاریخ سے نالاں ہیں اس شہر کے لوگ

    ڈھ دیتے ہیں جو تعمیر پرانی ہوتی ہے

    یہ نکتہ اک قصہ گو نے مجھ کو سمجھایا

    ہر کردار کے اندر ایک کہانی ہوتی ہے

    اتنی ساری یادوں کے ہوتے بھی جب دل میں

    ویرانی ہوتی ہے تو حیرانی ہوتی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY