اس نے جاتے ہوئے کہا بدلہ

ایمان قیصرانی

اس نے جاتے ہوئے کہا بدلہ

ایمان قیصرانی

MORE BYایمان قیصرانی

    اس نے جاتے ہوئے کہا بدلہ

    خود سے لوں گا میں اب ترا بدلہ

    سخت سردی میں چائے آرڈر کی

    ہم نے موسم سے لے لیا بدلہ

    اس دوپٹے کو چھو کے وعدہ کر

    جو بھی بدلا وہ پائے گا بدلہ

    میں ترے نام کر تو دوں لیکن

    دل بلوچن کا چاہے گا بدلہ

    ایک شاعر سے بد تمیزی کا

    ہم نے شعروں میں لے لیا بدلہ

    یہ مری تربیت نہیں ورنہ

    میں بتاتی تمہیں ہے کیا بدلہ

    میں تو چپ ہوں مگر مرے دشمن

    تم سے لے گا مرا خدا بدلہ

    تیری دستار بھی ہے دامن بھی

    میں نے پھر بھی نہیں لیا بدلہ

    میں تری بے بسی سے واقف ہوں

    مجھ پہ جائز نہیں رہا بدلہ

    عشق اور ہجر کی مصیبت سے

    میں نے لینا تھا اور لیا بدلہ

    ہاں یہ سچ ہے بدل گئی ایماںؔ

    کیونکہ تم سے تھا اب روا بدلہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY